Ad Code

Responsive Advertisement

 
دنیا کا مال انسان کے لئے صرف تین قسم کا ہےعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا ہے کہ میرا مال حقیقت میں اس مال میں سے اس کا صرف تین قسم کا مال ہی ہوتا ہے انسان کہتا ہے کہ میرا مال اتنا ہے اتنا ہے جو اس کا اصل نام ہے وہ یہ درج ذیل ہے

جو اس نے کھا لیا اور ختم کر لیا
جو اس نے پہن لیا اور اس کو بوسیدہ کر لیا
اور جو اس نے اللہ تعالی کی را
ہ میں خرچ کیا آخرت کے لیے اس نے ذخیرہ کر لیا یا ان اموال کے علاوہ جو بھی مال اسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے
 والا ہے ہے

ارشاد باری تعالی ہے کہ
الذی جمع مالا وعددہ

ہلاکت ہے ایسے انسان کے لیے جو مال جمع کرتا ہے اور گنتا رہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا ہی رہے گا ہرگز نہیں یہ تو توڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا

دنیا کا مال و متاع ایک ضرورت اور عارضی ہے اس کو اسی کے مطابق حاصل کرو جتنا تم استعمال کر سکوں اور باقی جمع ہو اس کو صدقہ خیرات کر دیا جائے کیونکہ اگر کوئی اپنی محبت کا حصہ دنیاوی مال دنیا کی محبت میں صرف کرے گا برباد کر بیٹھے گا رضی اللہ تعالی عنہ نہ سے روایت ہے ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے

آیت کریمہ 

جس نے اللہ سے بڑھ کر دنیا سے محبت کی اور اس نے اپنی آخرت برباد کر لیا کیا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا بس تم باقی رہنے والی شے کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح ہو

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہے فرمایا
اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا گھونٹ نہ بلاتا تا

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کے مردہ بچے کے پاس سے گزر رہے تھے جس کے کان بہت چھوٹے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے سے پوچھا کیا تم میں سے سے کوئی ایک شخص ہے اس بکری کے بچے کو ایک جرم میں لینا پسند کرے گا صحابہ نے عرض کیا ہم تو کسی معمولی چیز کے پیسے خریدنے کو تیار نہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس اللہ کی قسم دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا تمہارے نزدیک یہ بھیڑ کا بچہ ہے

اللہ کی قسم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال اتنی ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی دریا کے پانی میں ڈالتا ہے وہ غور کرے اس انگلی علی بے اس کے ساتھ کتنا پانی لگا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Close Menu