عابد علی جو موٹروےریپ کا ماسٹرمائنڈ ہے، وہ اب تک مفرور ہے جبکہ دوساتھی گرفتارہوچکے، خاتون نے تصویروں سے شناخت کرلی#CCPOLAHORE
عابدعلی کے فرار ہونے کے حوالے سے ذہن میں ایک بات جنم لے رہی ہے کہ اسے فرار کروادیاگیا ہوگا یا پھرکوئی اور معاملہ ہے ا گرچہ سی سی پی او نے الزام میڈیاپردھرکرجان چھڑانے یا سوچ کا رخ بدلنے کی کوشش کی ہےلیکن میرا ذہن کہتاہے کہ عابدعلی کو خود اس کے ساتھی پولیس اہلکاروں نے فرارکروایاہےکہ ماسٹرمائنڈ وہی تھا جبکہ اس کے دوسرے ساتھی صرف اس کاساتھ دےرہے تھے
عابد علی اپنے ساتھی کے ساتھ اس وقت موٹروے پر ظاہر ہوا جب خاتون نے پولیس کو فون کرکے 1000روپے کا پٹرول مانگا اور لوکیشن بتائی ، ٹول پلازا صرف تین کلو میٹر دور تھا، پولیس ڈھائی گھنٹے نہیں آئی ، اس دوران ملزمان بےخوف ہوکر تشدد اور لوٹ مار کرتے رہے ، جب وہ واردات کرکے چلے گئے تب پولیس آگئی اور وہ بھی صرف تین کلومیٹر کے فاصلے سے
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ملزمان جب نقدی زیور اور اے ٹی ایم کارڈ لےجارہے تھے تو انہوں نے ایک ہزارروپے دئیے کہ یہ لو پٹرول کے پیسے، یہ وہی الفاظ ہیں جو متاثرہ خاتون نے پولیس کو کال پر کہےتھے کہ ہزار روپے کا پٹرول چاہیے
میں نےگذشتہ روز کی پوسٹ میں بھی کال لاگ چیک نہ کرنے کی طرف اشارہ کیاتھا کہ اگر سارا کال لاگ چیک کرلیاجائے تو پتہ چل جائے گا کہ دو گھنٹے کے اندر اندر پولیس سینٹر سے کہاں کہاں کالز کی گیئں جس سے کرائم کی گتھیاں سلجھ جاتیں لیکن اتنے اہم پوائنٹ کو بالکل نظرانداز کیا گیا، ہونا یہ چاہئئے تھا کہ تمام کالز ریکارڈ قبضے میں لیکر عملے کو گرفتارکرکے سختی سے تفتیش کی جاتی
یہ ممکن نہیں ہے کہ موٹر وے جیسی اہم شاہراہ پر اور پولیس سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر ملزم عابد اپنے ساتھی کے ساتھ اطمینان سے ایک گھنٹہ تک اتنا سنگین جرم کرتارہا جس نے پورے ملک کو ہلاکردکھ دیا
یقینا” عابد علی سارے جرائم پولیس کی سرپرستی میں کرتارہااور پولیس والوں نے سوچا اور انھوں نے یہ سمجھا ہو گا کہ خاتون خاموشی سے گھر چلی جائےگی اور ہمیں اس لوٹے ہوئے مال میں حصہ مل جائے گالیکن سوشل میڈیاپراٹھنےوالےطوفان نے انتظامیہ کی چولیں ہلادیں تو بچاؤ کےلئےفوری طورپر عابدعلی کو فرار کروایاگیاکیونکہ اس کی گرفتاری سے سرپرست پولیس اہلکار بھی بے نقاب ہوجاتے، عابد علی کی زندگی بہت ضروری ہے کیونکہ راز فاش ہونے کے ڈر سے اسے قتل بھی کیاجاسکتا ہے اگر آپ اس تحریر سے راضی ہیں تو جتنا بھی کال ڈیٹا ہے اسے چیک کیا جائے اور اصل حقائق کو پرکھا جائے اور ان مجروموں کو چوک میں شر عام پھانسی دی جائے تاکہ کوئی بھی شخص اس طرح کے واقعات کو کرنا تو دور اور سوچے بھی مت اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سچ سامنے آ سکے
0 تبصرے