آئیندہ FATF
کا آئیندہ اجلاس فرانس مین ہورہاہے،
خاتون نے اپنا نام ، موبائل نمبر اور ایڈریس بھی غلط دیا اب روپوش ھےاور اب واپس فرانس کی اچانک تیاری یہ سب کیا ماجرا ھے؟موٹر وے والی خاتون کا واٹس ایپ نمبر سے مریم نواز کے واٹس ایپ نمبر استعمال ہورہا تھا۔۔
پہلی تحقیقات انکشاف۔۔موٹروے واقعے میں جو "ذیادتی" کا شکار خاتون ہیں انکے متعلق بتایا گیا کہ جی خاتون فرانس سے آئی تھیں اور پھر تب سے منظر سے غائب ہیں.
عورت کو فرانس کی نیشنل ظاہر کرنے کے پیچھے وجوہات ہیں کہ ایک تو وہاں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اجلاس ہونے جا رہا ہے. وہاں پاکستان کو خواتین کے لیے غیرمحفوظ قرار دینا اور ساتھ ساتھ اسلامی ممالک میں ایسے واقعات کے نام سے اسلامو فوبیا کو تقویت دینا.
دوسرا اگر یہ ڈرامہ کسی پاکستانی خاتون کے ذریعے کیا جاتا تو 5 منٹ میں سارا ڈرامہ ایکسپوز ہوجانا تھا اور اگلے ہی لمحے اس سارے واقعے کے پیچھے موجود بھیانک کردار سامنے آجانے تھے.
فرانس سے آئی ہوئی خاتون کو نہ تو کسی نے دیکھا، نہ ہی انکی کوئی فوٹیج، نہ ہی کوئی شناختی کارڈ، نام غلط، موبائل نمبر غلط، گھر کا پتہ غلط. اب اگر وہ آرام سے سارا کھیل کھیلنے کے بعد فرانس چلی بھی گئی ہوں تو ساری زندگی ڈھونڈتے رہیں کسی کو کیا علم وہ خاتون کون تھیں کیسی دیکھتی تھیں، جب کوئی جانتا ہی نہیں تو یہ ڈرامہ لمبا چلے گا اور لٹکا رہے گا. ایک تیر میں دو شکار ہوجائیں گے۔۔لازمی پڑھین اپنی رائے بھی دین سانحہ موٹر وے کچھ مزید اھم انکشافات !!!!
——————————————————————————
مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تھا اور ساری سازش صرف #CCPOLahore کے خلاف تھی۔ یہ سارا واقعہ کیا تھا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا، اسکی تفصیل درج ذیل ہے
ایک عورت بمطابق FIR رات کے گھنے آندھیرے 12:30 بجے گھر سے اپنے 3 کمسن بچوں کے ہمراہ نکلتی ہے۔ ساتھ اپنے اک پرس رکھتی ہے جس میں مدعی کے مطابق 1 لاکھ کیش، 2 کڑے اور 1 بریسلیٹ ، 3 ATM کارڈ موجود ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا سوال یہ کہ اگر مجھے اسلام آباد تک سفر کرنا ہے
اور میں یہ جانتا بھی ہوں کہ میں نے بذریعہ موٹروے جانا ہے جس پر پٹرول پمپ موجود نہیں یا شہر کے قریب جا کر ہے تو کیا میں اس قدر بے وقوفی کروں گا کہ میں پیٹرول ہی نہ بھراؤ حالانکہ پیٹرول کا علم تو کار میں بیٹھے بیٹھے پتہ لگ جاتا ہے۔ کیا اس عورت کو اتنا بھی پتہ نہ چلا؟؟؟
دوسرا سوال یہ کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ آپ کو رات 12:30 گھر سے نکلنا پڑا اور آپ نے صبح کا انتظار بھی کرنا گوارہ نہ کیا۔
تیسرا سوال یہ کہ جب ان کا پیٹرول ختم ہوا تو انہوں نے خاوند کو فون کیا اور پھر پولیس والوں کو فون کیا۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ آپ اپنی لوکیشن پولیس والوں کو
دیتی ہیں اور پولیس سے پہلے وہاں مجرمان پہنچ جاتے ہیں۔ مجرموں کو گھنے آندھیرے اور اتنی بڑی موٹروے پر کیسے معلوم ہوا کہ اک عورت کی فلاں جگہ پر گاڑی خراب ہے اور اس میں عورت بچوں کے ہمراہ ہے اور مرد بھی نہیں ہے حالانکہ یہ مجرمان کسی گاڑی میں بھی نہیں آئے؟؟؟
میں آپ کو FIR دے رہا ہوں اگلی ٹویٹ میں جس کے مطابق شوہر اپنے دوست کے ہمراہ بیوی کیلئے روانہ ہوا اور جائے وقوعہ پر پہنچا اور بیوی کو جنگل سے آتے پایا۔
سوال یہ کہ عورت کے پاس تو سب سے پہلے ڈولفن پولیس والے پہنچے تھے جن کے مطابق عورت اپنے بچوں کے ہمراہ جنگل میں لیٹی پائی گئی👇
2 مزید دلچسپ سوال یہ ہیں کہ واقعہ رات 3 بجے پیش آیا تو اس واقعہ کے ہونے سے پہلے ہی جیو نے 9:26 پر یہ خبر کیسے دے ڈالی اور وہ بھی اس ٹائم پر جب پورا پاکستان خبروں کے چینل لگائے بیٹھا ہوتا ہے؟ عورت گھر سے 12:30 بجے نکلی اور جیو نے 3 گھنٹے پہلے ہی واقعہ بتا دیا وہ کیسے
دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مدعی نے FIR درج کروائی اس نے اپنا ایڈریس اور فون نمبر بھی دیا جو کہ بعد میں فون نمبر اور ایڈریس دونوں جعلی نکلے۔ وہ کیوں؟؟؟
اک مرد کی بیوی کی بے حرمتی ہوئی اور وہ اپنی اہم معلومات ہی جعلی دے رہا ہے وہ کیوں؟؟
اس پورے واقعہ میں پولیس کیسے ذمہ دار ہوئی؟؟ اگر نہیں ذمہ دار تو پھر صرف ن لیگی اور کرپٹ صحافی ٹولہ صرف اور صرف #CCPOLahore کا استعفیٰ ہی کیوں مانگ رہے ہیں وہ اس میں کیسے مجرم ہوئے؟؟
کیا انہیں بنیادی سوالات اٹھانا ہی مجرم کر گیا؟؟؟
آئیے جانتے ہیں کیوں
جناب عالی #CCPOLahore وہ شخص ہیں جو اپنی ایمانداری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اس شخص نے 2 ایسے کام کیے جس کے بعد یہ سارا گھناونا کھیل شروع ہوا۔
پہلا یہ کہ انھوں نے کلثوم نواز کے بھانجے پر ہاتھ ڈالا۔ تفصیل @SyedaSays__ کے اس ٹویٹ میں موجود ہے
دوسرا اس صاحب کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ انہوں نے پولیس میں کورٹ مارشل کا قانون لانا چاہا۔ اگر یہ قانون آجاتا تو ن لیگ کے لگائے تمام کرپٹ افسران کا کورٹ مارشل ہو جاتا اور یوں صرف 2 سال میں پولیس کا ادارہ گندگی سے پاک ہوجاتا۔ لیکن یہ کیسے منظور ہو سکتا ہے ن لیگ کو پھر یہ کھیل
کھیل شروع ہوا جس میں ٹارگٹ صرف و صرف #CCPOLahore تھے۔
اک اور ثبوت
اس واقعہ سے پہلے کیپٹن صفدر اور #CCPOLahore کے مابین لڑائی ہوئی جس میں کیپٹن صفدر نے سی سی پی او کو دھمکیاں دیں لیکن سی سی پی او نے اک نہ سنی۔ پھر یہ واقعہ ہوا
صرف جزبات سے نہیں دماغ سے کام لیں یہ بہت بڑا گورکھ دھندہ لگ رہا ہے جو نظر آ رہا ہے ویسا ہے نہیں.
0 تبصرے